صحافی ارشد شریف کا کینیا میں قتل





ارشد شریف شہید پاکستان کی تحقیقاتی صحافت کا بڑا نام تھے جن کو 23 اکتوبر 2022 کو کینیا میں بہیمانہ طور پر قتل کردیا
 گیا۔ جس طرح سے انکو مئی 2022 میں دھمکیاں آنا شروع ہوئیں اس ہی طرح انکو اکتوبر 2022میں قتل کیا گیا۔ ان کا قتل تو کینیا میں ہوا لیکن اسکی کڑیاں پاکستان اور دئبی سے جاملتی ہیں۔ ارشد شریف ناصرف مایہ ناز صحافی تھے بلکے ایک شاندار انسان تھے۔ انہوں نے ناصرف کرپشن کا پردہ چاک کیا اس کے ساتھ ساتھ فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کا حصہ لیا۔ وہ بہت خدا ترس اور عاجزی انکساری والے انسان تھے۔ جتنا کمایا اتنا ہی فلاحی کاموں میں لگا دیا انکو نمودونمائش کا کوئی شوق نہیں تھا بہت سادگی پسند تھے اپنے پیچھے کوئی جہاز فارم ہاوس نہیں چھوڑ کرگئے۔ تاہم ایسے بہت سے کام کرکے گئے جو بطور صدقہ جاریہ تاقیامت انکو ثواب دیں گے اور حق گویائی اور سچائی آگے آنے والی نسلوں کے لئے قابل تقلید ہیں۔ ارشد کا قصور کیا تھا صرف سچ بولنا یا کرپشن کو برا سمجھنا۔ اس کو مار کو صحافی برادری کو کیا پیغام دیا گیا ہے کہ چپ رہو اور سچ نا بولو۔ اس کے بہیمانہ قتل کی تصاویر جان کر پھیلائی گئ تاکہ ہم لواحقین زندہ درگور ہوجائیں اور صحافی ڈر کر چپ ہوجائیں۔ اب ارشد کے انصاف کی جنگ بھی ہمیں اکیلا لڑنا پڑرہی ہے سوشل میڈیا پر بہت لوگ آواز اٹھاتے ہیں لیکن آخر میں خاندان کو ہی سب کچھ اکیلے کرنا پڑتا ہے سو ہم کررہے ہیں کیونکہ ارشد کا چلے جانا ہمارا سب سے بڑا نقصان ہے۔ ارشد بہت محنتی تھے انکو کام کرنے کا بہت شوق تھا۔ وہ سب کام پر فوکس رہتے جب انکو آف ائیر کروادیا گیا تو وہ اپنے کام کو بہت مس کیا کرتے تھے۔ آخری دم تک پرامید تھے کہ وہ اس ملک میں انقلاب لے آئیں گے اور اس ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہوجائے گا۔ پر ایسا نہیں ہوا آج بھی اس ملک میں سب ویسا ہے۔ لوگ آٹے کے لئے دھکے کھا رہے ہیں مہنگائی عروج پر ہے اور کرپشن بھی ویسے ہی ہورہی ہے۔ عوام دھکے کھارہے ہیں اور اشرافیہ یورپ کی سیر کررہے ہیں۔ ارشد تم کبھی کسی کے ساتھ ذاتیات پر نہیں اترے تم تو بہت متوازن صحافت کرتے تھے۔ کبھی کسی کی تذلیل نہیں کی تم صرف حقائق پر بات کرتے تھے۔ کیا اس ملک سے محبت کرنا جرم تھا جو تم پر سولہ ایف آئی آئی آرز ہوگی۔ تم کتنا رنجیدہ ہوئے تھے اور تم ہر مشکل کا مقابلہ کررہے تھے۔ تمام نے صدر پاکستان عارف علوی کو خط لکھا تم نے چیف جسٹس کو خط لکھا خود کو ملنے والی دھکمیوں کے بارے میں بتایا لیکن کسی نے تمہیں انصاف نہیں دیا تمہیں آف ائیر کردیا گیا کوئی کچھ نہیں بولا۔ جب لوگوں کو پاکستان میں اغوا کرکے برہنہ کرکے مارپیٹ شروع ہوئی تو تم نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ تمہاری امیگریشن کاونٹر والی تصویر جان بوجھ کر پھیلائی گئ کچھ صحافیوں نے سوشل میڈیا صارف نے وہ تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرکے تمہارا میرا مذاق اڑایا گیا۔ تمہیں ملنے والی دھکمیوں کا مذاق بنایا گیا۔ تم پہلے یو اے ای گئے پھر کینیا آئے جہاں ارشد کو بہیمیانہ طور پر قتل کردیا گیا۔ مجھے پاکستان کی ریاست سے یہ گلہ ہے کرپشن کا پردہ چاک کرنے والوں پر سولہ ایف آئی آرز کردی جاتی ہیں اور کرپشن کرنے والو کو این آر او مل جاتے ہیں۔ ارشد کا کیا جرم تھا یہ ہی کہ وہ بہادر تھے سچ بولتے تھے اورمجھے حکومت کینیا سے بہت گلہ ہے کہ ایک صحافی جو جان بچا کر ان کے ملک میں عارضی پناہ لئے ہوئے تھا اسکو تحفظ نہیں دیا گیا اور اسکو یوں مار دیا گیا۔ جبکہ وہ غریب الوطن تھا نہتا تھا اور اپنی جان کے خطرے کی وجہ سے دوسرے ملک میں عارضی پناہ لینے پر مجبور تھا۔ اس نے کبھی اسائلم اور زیزڈنسی کے لئے اپلائی نہیں کیا۔ ارشد شریف کون تھا ارشد اعلی تعلیم یافتہ صحافی تھا اسکو اردو انگریزی پر مکمل عبور حاصل تھا۔ وہ 1973 میں کراچی میں پیدا ہوئے۔ تعلیمی میدان میں جھنڈے گاڑھے اور سپورٹس بیت بازی اور تقاریر میں بھی انعامات جیتے۔ اس کے والد محمد شریف نیوی کے اعلی پایہ کے آفیسر تھے اسکی والدہ رفعت آرا اعلی تعلیم یافتہ اور سلیقہ شعار خاتون جن کی ساری زندگی بچوں کی تعلیم و تربیت میں گزرگئ۔ انکی مہمان نواز اور سیلقہ سارے خاندان میں مشہور ہے۔ ان کا چھوٹا بیٹا اشرف شریف شہید بھی پاک آرمی میں اس وطن عزیز پر قربان ہوگیا اب بڑا بیٹا بھی سچ کی راہ میں شہید ہوگیا۔ وہ صبر اور ہمت کی مثال ہیں۔ ارشد شریف اعلی تعلیم کے آئیرلینڈ گئے اور اعلی اعزاز کے ساتھ میڈیا اسٹڈیز میں ماسٹرز کیا۔پاکستانی نشریاتی اداروں کے ساتھ غیر ملکی خبررساں رائیڑز میں بھی کام کیا۔ صحافت کے ساتھ ساتھ وہ فوٹوگرافی میں بھی ماہر تھے نیچر وائلڈ لائف اور پورٹریٹ انکا خاصہ تھے۔ اس کے ساتھ وہ ایک مودب بیٹے پیار کرنے والے شوہر اور شفیق باپ تھے۔ گھومنے پھرنے ہائکنگ اور ڈائنگ کے دلدادہ تھے۔ مہمان نواز اتنے تھے کہ آج تک ہمارے گھر سے کوئی کھانا کھائے بنا اور تحفے کے بنا واپس نہیں گیا۔ ارشد شریف بہت ملنسار تھے اور بہت مدد کرتے تھےvوہ خطیر رقموں کے ساتھ چیریٹی کیا کرتے تھے۔ کبھی کسی کی مدد سے انکار نہیں کیا۔ لاکھوں لوگوں نے انکے جنازے میں شرکت کی آج بھی انکی قبر پر پھول تازہ ہیں اور انکے مداح روز انکی قبر پر جاتے ہیں۔

Post a Comment

0 Comments